عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

زہر کا دائرہ Zeher Ka Daira


کچھ انتقام دشمن کو نہیں، انتقام لینے والے کو عمر بھر جلانے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔

مرکزی خیال:

یہ افسانہ خواہش، ہوس، انتقام اور استحصال کے اُس دائرے کی کہانی ہے جس میں انسان دوسروں کو تباہ کرنے نکلتا ہے مگر آخرکار خود اپنی تباہی کا حصہ بن جاتا ہے۔ دولت، جھوٹی محبت، خوشامد اور نشہ مل کر ایک ایسی زنجیر بناتے ہیں جس سے آزادی صرف جسم کی نہیں، روح کی بھی قیمت مانگتی ہے۔


(1)

شہر کے مصروف ترین چوک میں دوپہر کی دھوپ یوں جھلک رہی تھی جیسے آسمان نے آگ کا ایک شیشہ زمین پر الٹ دیا ہو۔

خیر دین ننگے پاؤں گرم تارکول کے کنارے کنارے چلتا تھا۔ اس کی قمیص اتنی بوسیدہ تھی کہ کپڑا اور ہوا ایک دوسرے میں فرق کرنا بھول چکے تھے۔ ہر بار جب سرخ بتی جلتی، گاڑیاں رک جاتیں اور وہ ایک گاڑی سے دوسری گاڑی تک یوں بھاگتا جیسے زندگی اس کے قدموں سے بندھی ہوئی ہو۔

"اللہ کے نام پر کچھ دے دو... دو دن سے بھوکا ہوں۔"

اس کی آواز میں بھوک کم اور اضطراب زیادہ تھا۔

بھوک روٹی مانگتی ہے، نشہ خوراک۔

اور وہ روٹی نہیں، خوراک تلاش کر رہا تھا۔

صبح سے اس نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ آج خالی ہاتھ نہیں لوٹے گا۔ پرانا ادھار چکانا تھا۔ پھر نئی پڑیا ملنی تھی۔ بیوپاری صاف کہہ چکا تھا:

"پہلے پچھلا حساب۔ پھر نیا سودا۔"

اسے آج پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ بھیک مانگنا صرف ہاتھ پھیلانا نہیں، اپنی باقی ماندہ عزت کے آخری ٹکڑے بھی لوگوں کے قدموں میں رکھ دینا ہے۔

سرخ بتی جلی۔

گاڑیاں رکیں۔

اسی لمحے ایک سیاہ رنگ کی قیمتی گاڑی آ کر رکی تو اچانک لوگوں کا ہجوم اس طرف لپک پڑا۔ موبائل فضا میں بلند ہوگئے۔ کچھ لوگ تصویریں بنانے لگے۔

خیر دین بھی رک گیا۔

پھر اس کی آنکھیں سکڑ گئیں۔

اسٹیئرنگ پر بیٹھا آدمی...

فلک شیر تھا۔

اس کے سینے میں جیسے کسی نے پرانی قبر کھود دی۔

وہی فلک شیر۔

دوست...

پھر غدار...

پھر جلاد۔

پچھلی نشست پر ایک عورت بیٹھی تھی۔ بڑے سیاہ چشمے، سفید دوپٹہ، چہرے پر عجیب سی مصنوعی ہمواری۔

گاڑی کا شیشہ مکمل نہ کھلا، صرف ہاتھ باہر آیا۔

لوگ دیوانوں کی طرح ہاتھ ہلانے لگے۔

اتنے میں سگنل سبز ہوگیا۔

گاڑی تیر کی طرح نکل گئی۔

خیر دین دیر تک سڑک کو دیکھتا رہا۔

پھر اس نے قریب کھڑے ایک لڑکے سے پوچھا:

"بیٹا... یہ کون تھی؟"

لڑکے نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"بابا، آپ نہیں جانتے؟ یہ لالی ہے۔ فلموں والی لالی۔ کچھ عرصہ پہلے کسی نے اس پر تیزاب پھینک دیا تھا۔ ابھی سرجری کروا کے واپس آئی ہے۔"

خیر دین کے ہونٹ ہلے مگر آواز نہ نکلی۔

اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔

دھوپ اچانک اور زیادہ تیز محسوس ہونے لگی۔

وہ لڑکھڑاتا ہوا گرین بیلٹ کے ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔

اس کے سامنے سڑک تھی۔

اس کے اندر ماضی۔

اور ماضی ہمیشہ حال سے زیادہ ظالم ہوتا ہے۔

(2)

اسے اپنے باپ کی آخری آواز یاد آئی۔

مرتے وقت بوڑھے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا:

"بیٹا، دولت چھوڑے جا رہا ہوں، مگر دولت منزل نہیں، صرف راستہ ہوتی ہے۔ غلط لوگوں سے بچنا۔ پیسہ اور بازار کی محبت کبھی کسی کی نہیں ہوتی۔ جب تک جیب بھری رہتی ہے، سب اپنے ہوتے ہیں۔ جیب خالی ہو جائے تو آدمی بھی خالی ہو جاتا ہے۔"

اس وقت خیر دین جوان تھا۔

اور جوانی نصیحت کو آواز نہیں، شور سمجھتی ہے۔

باپ مر گیا۔

جائیداد اس کے نام ہوگئی۔

دولت نے دروازے کھول دیے۔

اور عقل نے ایک ایک کر کے سب بند کر دیے۔

وہ خوشامدی دوستوں کے جھرمٹ میں داخل ہوا۔ شراب آئی۔ جوا آیا۔ راتیں آئیں۔

پھر ایک رات لالی آئی۔

اس زمانے میں وہ لالی نہیں تھی۔

صرف ایک لڑکی تھی جس کی ہنسی میں گڑھے پڑتے تھے۔

اور خیر دین کو لگتا تھا کہ وہ گڑھے نہیں، جنت کے دروازے ہیں۔

وہ اس کے کوٹھے پر جانے لگا۔

پھر روز جانے لگا۔

پھر وہیں رہنے لگا۔

محبت نے اسے اندھا نہیں کیا تھا۔

محبت کے نام پر اس کی خواہش نے اس کی بینائی چھین لی تھی۔

لالی کی ماں جانتی تھی کہ شکار کب تھکتا ہے اور کب رسی ڈھیلی کرنی چاہیے۔

وعدے ہوئے۔

سپنے بنے۔

شادی کی باتیں ہوئیں۔

اور خیر دین اپنی دولت لالی کے قدموں میں بہاتا رہا۔

پھر فلمیں آئیں۔

سرمایہ آیا۔

شہرت آئی۔

اور ایک دن سب کچھ لالی کے نام ہوگیا۔

جائیداد۔

کاروبار۔

سرمایہ۔

حتیٰ کہ اس کے راز بھی۔

پولیس نے چھاپے مارے۔

مقدمے بنے۔

دوست غائب ہوگئے۔

اور خیر دین جیل چلا گیا۔

دس برس۔

پورے دس برس۔

(3)

جب وہ باہر آیا تو شہر بدل چکا تھا۔

لالی اداکارہ بن چکی تھی۔

فلک شیر اس کا منیجر تھا۔

اور خیر دین...

صرف ایک سابق مجرم۔

اس کے اندر انتقام ایک آہستہ جلتی بھٹی کی طرح زندہ رہا۔

پھر ایک دن اس نے تیزاب خریدا۔

اور ایک لمحے میں لالی کا چہرہ جلا دیا۔

اسے لگا تھا کہ اس نے حساب برابر کر دیا ہے۔

لیکن انتقام حساب برابر نہیں کرتا۔

صرف خسارہ دونوں طرف تقسیم کر دیتا ہے۔

اس رات وہ پہلی بار سکون سے سویا تھا۔

اور اگلے ہی دن سے بے سکونی شروع ہوگئی تھی۔

(4)

پھر فلک شیر آیا۔

پرانے دوست کی طرح۔

معذرت خواہ بن کر۔

پناہ دینے والا بن کر۔

خیر دین نے سمجھا تھا کہ دنیا میں ابھی کچھ وفاداری باقی ہے۔

اسے کیا معلوم تھا کہ بعض زہر میٹھے پانی میں گھول کر پلائے جاتے ہیں۔

فلک شیر اسے طاقت کے انجکشن لگاتا رہا۔

وہ شکر گزاری سے مسکراتا رہا۔

کچھ مہینوں بعد اس کا جسم ہیروئن مانگنے لگا۔

اور ایک صبح اسے گھر سے نکال دیا گیا۔

اب وہ سڑکوں پر تھا۔

نشے کا غلام۔

اور اپنی تباہی کا تماشائی۔

(5)

درخت کے سائے میں بیٹھے بیٹھے جب اسے آج فلک شیر اور لالی ایک ہی گاڑی میں نظر آئے تو اسے سب سمجھ آ گیا۔

وہ کبھی جیتا ہی نہیں تھا۔

ہر بار ہارا تھا۔

حتیٰ کہ اپنے انتقام میں بھی۔

سورج ڈھلنے لگا۔

بازار آباد ہونے لگے۔

پھل فروش اپنی ریڑھیاں لگا رہے تھے۔

گنڈیریوں پر پانی چھڑکا جا رہا تھا۔

زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔

صرف خیر دین ماضی کے ملبے میں بیٹھا تھا۔

وہ اٹھنے لگا۔

نشے کے لیے ابھی اور پیسے اکٹھے کرنے تھے۔

اسی لمحے ایک گاڑی چیختے ہوئے اس کے قریب رکی۔

دروازہ کھلا۔

فلک شیر باہر نکلا۔

سگریٹ سلگایا۔

چند قدم چل کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

اور اچانک اس کا گریبان پکڑ لیا۔

"اوئے فقیر!"

خیر دین سہم گیا۔

فلک شیر کی آنکھوں میں نفرت تھی۔

یا شاید فتح کا غرور۔

"لالی بی بی تجھے دیکھنے آئی تھی۔ بھیک دینے آئی تھی۔ مگر تو مانگنے ہی نہیں آیا۔"

وہ ہنسا۔

"فقیر کا کام مانگنا ہوتا ہے۔ تُو بھیک بھی نہ مانگ سکا۔"

خیر دین خاموش رہا۔

فلک شیر نے جیب سے ایک سگریٹ نکالا۔

وہ عام سگریٹ نہیں تھا۔

خیر دین کی آنکھیں فوراً پہچان گئیں۔

نشہ۔

نجات بھی۔

عذاب بھی۔

فلک شیر نے سگریٹ اس کی طرف بڑھایا۔

"یہ لالی بی بی نے بھیجا ہے۔ وہ چاہتی ہیں تُو زندہ رہے۔ خوب زندہ رہے۔"

اس جملے میں جتنی سفاکی تھی، شاید گولی میں بھی نہ ہوتی۔

خیر دین کے بدن میں کپکپی دوڑ گئی۔

کل سے اسے نشہ نہیں ملا تھا۔

ہڈیاں درد کر رہی تھیں۔

آنکھیں جل رہی تھیں۔

روح سکڑ رہی تھی۔

اس نے لرزتے ہاتھ آگے بڑھائے۔

دونوں ہتھیلیاں اوک کی صورت کھل گئیں۔

سر جھک گیا۔

بہت نیچے۔

شاید زمین سے بھی نیچے۔

اور پھر اس کے ہونٹ ہلے:

"صاحب جی... اب غلطی نہیں ہو گی۔"

فلک شیر ہنس پڑا۔

سڑک پر گاڑیاں چلتی رہیں۔

شام اترتی رہی۔

اور خیر دین کی جھکی ہوئی ہتھیلیوں میں رکھا ہوا سگریٹ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کی پوری زندگی کو راکھ کی ایک پتلی سی لکیر میں سمیٹ دیا ہو۔

ــــــــــــــــــــــــــــ

مشکل الفاظ کے معنی:

فرلاٹے بھرنا تیزی سے دوڑنا یا نکل جانا

تشنہ پیاسا، نامکمل

انبساط خوشی، دلی سرور

شبِ خون اچانک اور تباہ کن حملہ

تتربتر منتشر، بکھر جانا

سفاکی بے رحمی، سنگ دلی

ملبہ تباہ شدہ باقیات، کھنڈر

ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗 واٹس ایپ چینل لنک 📚

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: